سبحان تعالی
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - پاک و بزرگ و برتر، مراد: ذات الٰہی، اللہ تعالٰی۔ "اس سبحانہ تعالٰی نے ہم محمدیوں کو عجیب عنایت خاص سے نوازا۔" ( ١٩٨٨ء، صحیفہ، لاہور، جولائی، ٣٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'سبحان' کے بعد عربی اسم صفت 'تعالیٰ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٣٣ء سے "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پاک و بزرگ و برتر، مراد: ذات الٰہی، اللہ تعالٰی۔ "اس سبحانہ تعالٰی نے ہم محمدیوں کو عجیب عنایت خاص سے نوازا۔" ( ١٩٨٨ء، صحیفہ، لاہور، جولائی، ٣٢ )
جنس: مذکر